بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کی تجارت کی ترقی کی تنظیم کے سربراہ محمد علی دہقان دہنوی کہتے ہیں:
- بحری محاصرے کے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ ہماری درآمدات اور برآمدات کے شعبوں میں، خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ذریعے ہونے والی 75 فیصد غیر ملکی تجارت، ختم ہو جائے، لیکن کچھ اور ہی ہؤا۔
- وزن کے لحاظ سے ہم نے اپنی تجارت کا کچھ حصہ کھویا ہے لیکن درحقیقت ہم نے اپنی تجارت کا ایک بڑا حصہ ناکہ بندی کی زد میں آنے سے بچا لیا ہے۔
- تنازع شروع ہونے سے پہلے، ملک کی برآمدات اور درآمدات کا بڑا حصہ جنوبی سمندری راستوں سے منتقل ہوتا تھا۔
- بحری محاصرے کے ساتھ ہی، ریلوے اور سڑکوں کے راستے فوری طور پر متحرک ہو گئے تاکہ تبادلے کا بوجھ اٹھا سکیں۔
- متبادل سڑک اور ریل کوریڈورز کے ذریعے ملک کی برآمدات اور درآمدات کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور
- بنیادی ضروریات کی اشیاء کی درآمد میں ہمیں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے اور اقتصادی لحاظ سے مفید اشیاء کی برآمدات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ